Welcome to Youthfun like most online communities you must register to view or post in our community, but don't worry this is a simple free process that requires minimal information. Take advantage of it immediately, Register Now or Sign In.

* Start new topics and reply to others
* Subscribe to topics and forums to get automatic updates
* Add events to our community calendar
* Get your own profile and make new friends
* Customize your experience here

ثمینہ راجہ

Go down

ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:26

ثمینہ راجہ - بارشوں کی نظمیں


ابھی ایک پَل میں
-------------------

یہ ساری خرابی بس اک دم ہوئی ہے
ابھی پڑھتے پڑھتے
ورق پر ذرا روشنی کم ہوئی ہے
نگاہیں اٹھا کر جو دیکھا
تو کھڑکی سے باہر ۔۔۔ بہت گہرا بادل گھرا ہے

یقیں ہی نہیں آ رہا
دھوپ کے چمپئی ہاتھ
ابھی اس گلابی کگر پر دھرے تھے



عجب نیند تھی
----------------

عجب نیند تھی ۔۔۔ ہم تو سوتے رہے
اور کھڑکی سے باہر بہت گہرا، کالا، گھنا، تند بادل
برستا رہا

اور فلک سے زمیں تک ہر اک چیز کو
ہر شجر کو۔ حجر کو، عمارت کو، میدان کو
راستوں کو، پرندوں کو، پتوں کو، پھولوں کو
یک ساں شرابور کرتا رہا

ساری گلیوں میں بھیگے ہوئے لوگ
اپنے گھروں کی طرف ۔۔۔ تیز قدموں سے چلتے رہے
سارے صحنوں میں پُرشور پرنالے گرتے رہے
چھت پہ بوندوں کی ٹپ ٹپ ۔۔۔ لگاتار فریاد کرتی رہی
تیز جھونکوں سے سارے ہی دروازے بجتے رہے

بار بار آتی جاتی ہوئی برقی رَو سے
سبھی بلب بجھتے رہے اور جلتے رہے

بند آنکھوں میں خوابوں کے آوارہ ٹکڑے
بکھرتے، پریشان ہوتے رہے
ایسے عالم میں بھی دیر تک
ہم تو سوتے رہے




بارشوں کے بعد
------------------

بارشوں کے بعد
کالا آسماں خاموش تھا
گہری ہری گیلی زمیں خاموش تھی
اور بھیگی بھیگی دھوپ میں
اُس باغ کے سارے شجر خاموش تھے

اُس باغ میں پھیلا ہوا
وہ دن بھی
سر سے پاؤں تک بھیگا ہوا تھا
بارشوں کے بعد کی ٹھنڈی اداسی میں
چنبیلی کی بہت ہی تیز خوشبو کی طرح
اک یاد تھی ۔۔۔ جو دل کو شعلاتے ہوئے
تن سے لپٹتی جا رہی تھی

تن بہت خاموش تھا ۔۔۔ اور یاد میں
لپٹا ہوا تھا
تن، جو اپنی آگ میں بھیگا ہوا تھا




تم اگر آؤ
---------

تم اگر بارش کے فوراً بعد مجھ سے ملنے آؤ
روشنی کو ساتھ لے آنا
میں اپنے خواب پر جُھکتے گھنے بادل کے گہرے سائے میں
جل کر چمکنا چاہتی ہوں

تازگی کو ساتھ لے آنا
میں اپنے جسم کے دیوار و در پر چھائے
بوجھل حَبس میں
کِھل کر مہکنا چاہتی ہوں

زندگی کو ساتھ لے آنا
میں اپنی آنکھ کی ہلکی نمی میں
دل کی ویرانی میں
اس پیکر میں ڈھلنا چاہتی ہوں

تم اگر بارش کے فوراً بعد مجھ سے ملنے آؤ
عشق کی دیوانگی کو، اپنے پن کی سرخوشی کو، بے خودی کو
شاعری کو
ساتھ لے آنا





اُس کا شکر ہے
---------------

جس نے دُور سے اٹھتی آندھی کو اک ٹھہرے گہرے بادل کے سینے سے ٹکرایا
جس نے مدت سے افسردہ خاک آلود درختوں کو ٹھنڈے پانی سے نہلایا
جس نے دھوپ سے جلتی آنکھوں پر خوابوں کی اک چادر سی پھیلائی
جس نے تپتے تن کو بارش میں گھلتی مٹی کی سوندھی خوشبو دی
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:27

میں تمہارے فسانے میں داخل ہوئی




شام کی ملگجی روشنی

راستوں کے کناروں پہ پھیلی ہوئی تھی

فضا، زندگی کی اُداسی سے لبریز اور زرد تھی

دُور تک ایک نیلے تسلسل میں بہتی ہوئی نم ہَوا

سرد تھی

آسماں نے زمیں کی طرف سر جُھکایا نہیں تھا

ابھی اختِرشام نے اپنا چہرہ دِکھایا نہیں تھا

کہ جب میں نے بیکار دنیا کے ہنگام سے اپنا دامن چُھڑایا

دلِ مضطرب کو دِلاسا دیا

آگے جانے کی جلدی میں

جنگل پہاڑ اور دریا

کسی کو پلٹ کر نہ دیکھا

کہیں وقت کی ابتدائی حدوں پر کھڑے

اپنے پتھریلے ماضی کی جانب

بس اک الوداعی اشارہ کیا

خواب کا ہاتھ تھاما

نئے عزم سے سر کو اُونچا کیا

اور تمہارے فسانے میں داخل ہوئی

شام کی ملگجی روشنی راستوں کے کناروں پہ

اُس پَل تھمی رہ گئی

زندگی کی اُداسی سے لبریز ساری فضا

دم بخود

اور ہَوا اپنے پاؤں پہ جیسے جمی رہ گئی

~*~

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:29

وہ ستارہ ساز آنکھیں



وہ ستارہ ساز آنکھیں

مجھے دور سے جو دیکھیں

تو مرے بدن میں جاگے

کسی روشنی کی خواہش

کسی آرزو کا جادو

کسی حسن کی تمنا

کسی عشق کا تقاضا

مرے بےقرار دل کو

بڑی خامشی سے چھو لے

کوئ نرم رو اداسی

کوئ موج زندگی کی

کوئ لہر سر خوشی کی

کوئ خوش گوار جھونکا

اسی آسماں کے نیچے

اسی بے کراں خلا میں

کہیں ایک سرزمیں ہے

جو تہی رہی نمی سے

رہی روشنی سے عاری

رہی دور زندگی سے

نہیں کوئ اس کا سورج

نہ کوئ مدار اس کا

اسی گمشدہ خلا سے

کسی منزل خبر کو

کسی نیند کے سفر میں

کسی خواب مختصر میں

کبھی یوں ہی بے ارادہ

کبھی یوں ہی اک نظر میں

جو کیا کوئ اشارہ

وہ ستارہ ساز آنکھیں

مجھے کر گئيں ستارہ

~*~

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:31

اتر کر آئی ہے آنکھوں تلک بہار کی شام
نظر بچا کے شب و روز کے تسلسل سے
وہ موسموں کا گزرگاہِ زندگی پہ سفر
ہَوائے یاد کی ویران بستیوں کی طرف
کہ جن کی راہ میں دیوار تھی عجیب کوئی
وہ سنگ و خشت کی دیوار
یا ارادے کی
وہ راستے، جو فقط راستوں کے سائے تھے
وہ واہموں کی حدیں، مضطرب ارادوں پر
کہیں سرکتی، کسی سمت سرسراتی ہوئی
وہ شاخ شاخ پہ مثلِ خزاں برستی ہوئی
وہ پھول پھول کے دل کو
بہت ڈراتی ہوئی
خزاں سے عہد نہ تھا اور موسمِ گل سے
کبھی ملن نہ ہوا، وعدہِ وفا نہ ہوا
وہ موسموں کی حکایت کتابِ دل میں رہی
فسانہ اہلِ چمن کا کہیں لکھا نہ گیا
کبھی پڑھا نہ گیا اور کبھی سنا نہ گیا
زمیں جو پاؤں کے نیچے، زمیں کا دھوکہ تھی
کبھی ہری نہ ہوئی، دُوب لہلہائی نہیں
مسافتوں کے سروں پر کھڑے یہ شاہ بلوط
جو اب سیاہ ہوئے انتظارِ ہستی میں
ہَوا کے دوش پر آتا نہیں کوئی پیغام
نگاہِ ہجر میں کھلتا ہے صرف ایک گلاب
بس ایک خواب
فقط ایک خوابِ عشق مآب
مہ و ستارہ، گل و برگ، طائر و اشجار
صدائے خواب پہ ' لبیک' کہہ رہے ہیں تمام
اتر کر آئی ہے آنکھوں تلک
بہار کی شام

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:32

وہ جو غم کی پہلی بہار میں بنے آشنا
انہیں کوئی غم کا سندیس بھیج کے دیکھیے
انہیں پوچھیے
کہ نگاہِ وصل شناس میں کوئی اور ہے
جو ستارہ وار بلا رہا ہے کسی طرف
کہ یہ اپنی ذات سے کشمکش کی دلیل ہے
کوئی کیا کہے
کہ نئے جہان کی آرزو کے طلسم سے ہے
زبان گنگ
کوئی سنے بھی تو کیا سنے
کہ بلا کا شور امڈ رہا ہے فصیلِ شہرِ خیال سے
یہ جو حدِ شہرِ خیال ہے
یہ جُنوں کے گِرد خرد کی ایک فصیل ہے
یہ دلیل ہے
کہ وہ اپنی ذات کے عشق میں رہے سرگراں
انہیں کوئی نامۂِ عشق بھیج کے دیکھئے
کہ اِدھر بھی ایک ستارہ ہے
جو نئے جہاں کی سبیل ہے
انہیں ڈھونڈیے
وہ جوغم کی پہلی بہار میں، بنے آشنا

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:33

غزل

میں تمہارے عکس کی آرزو میں بس آٰ ئینہ ہی بنی رہی
کبھی تم نہ سامنے آ سکے،کبھی مجھ پہ گرد پڑی رہی

وہ عجیب شام تھی،آج تک میرے دل میں اس کا ملال ہے
میری طرح جو تیری منتظر،تیرے راستے میں کھڑی رہی

کبھی وقف ہجر میں ہو گئ کبھی خواب وصل میں کھو گئ
میں فقیر عشق بنی رہی، میں اسیر یاد ہوئی رہی

بڑی خامشی سے سرک کے پھر مرے دل کے گرد لپٹ گئ
وہ رداےء ابر سپید جو ، سر کوہسار تنی رہی

ہوئی اس سے جب میری بات بھی،تھی شریک درد وہ ذات بھی
تو نہ جانے کون سی چیز کی میری زندگی میں کمی رہی
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:35

نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں
کہ مستقل کسی غم کی نہاد ہے دل میں

ہے الف لیلہ و لیلہ سی زندگی در پیش
سو جاگتی ہوئی اک شہرزاد ہے دل میں

جو ضبط چشم کے باعث نہ اشک بن پایا
اس ایک قطرئہ خون کا فساد ہے دل میں

پھر ایک شہر سبا سے بلاوا آیا ہے
پھر ایک شوق سلیماں نژاد ہے دل میں

ہے ایک سحر دلآویز کا اسیر بدن
تو جال بنتی، کوئی اور یاد ہے دل میں

تمام خواہشیں اور حسرتیں تمام ہوئیں
مگر جو سب سے عجب تھی مراد ہے دل میں
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:36

تنہا، سر انجمن کھڑی تھی
میں اپنے وصال سے بڑی تھی

اک پھول تھی اور ہوا کی زد پر
پھر میری ہر ایک پنکھڑی تھی

اک عمر تلک سفر کیا تھا
منزل پہ پہنچ کے گر پڑی تھی

طالب کوئی میری نفی کا تھا
اور شرط یہ موت سے کڑی تھی

وہ ایک ہوائے تازہ میں تھا
میں خواب قدیم میں گڑی تھی

وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا
میں اپنے حضور میں کھڑی تھی
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:36


کیا مرے خواب مرے ساتھ ہی مر جائیں گے

ساز خاموش کو چھوتی ہے ـــــــ ذرا آہستہ
ایک امید ـــــ کسی زخمہء جاں کی صورت
لب پر آتے ہیں دل و ذہن سے الجھے یہ سوال
کسی اندیشے کے مانند ــــ گماں کی صورت

ذہن کے گوشہء کم فہم میں سویا ہوا علم
جاگتی آنکھ کی پتلی پہ ــــــ نہیں اترے گا
ڈوب جائے گا اندھیرے میں وہ نادیدہ خیال
جو چمکتاـــــــ تو کسی دل میں اجالا کرتا

جسم پر نشّے کے مانند ـــــــــ تصوّر کوئی،
دل میں تصویر مجسّم کی طرح کوئی وصال
دفن ہو جائے گا اک ٹھہرے ہوئے پانی میں
میری آنکھوں کی طرح عشق کا یہ ماہ جمال

ایک ہی پل میں بکھر جائے گا شیرازہء جاں
ایک ھی آن میں کھو جائے گی لے ہستی کی
عمر پر پھیلی ــــــ بھلے وقت کی امید جو ہے
ایک جھٹکے سے یہ دھاگے کی طرح ٹوٹے گی

کیا بکھر جائیں گے ـــــ نظمائے ہوئے یہ کاغذ
یا کسی دست ملائم سے ـــــــ سنور جائیں گے
کیا ٹھہر جائیں گے اس لوح پہ سب حرف مرے
یا مرے ساتھ ــــــــ زمانے سے گزر جائیں گے

میری آواز کی لہروں سے، یہ بنتے ہوئے نقش
کیا ہوا کی کسی جنبش سے، بکھر جائیں گے
زندہ رہ جائیں گے ـــــــــ تعبیر محبت بن کر
یا مرے خواب، مرے ساتھ ہی مر جائیں گے؟

ثمینہ راجہ


avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:37

میں خود سے پوچھ رہی تھی،کہاں گئے مرے دن
مجھے خبر ہی نہ تھی رائگاں گئے مرے دن

گئے ہیں وحشت صحرا سمیٹنے کے لیے
کہ سوئے بزم و سر گلستان گئے مرے دن

بہت اداس نہ ہو دل شکستگی سے مری
مرے حبیب،مرے رازداں ! گئے مرے دن

خدا کرے کوئ جوئے مراد سامنے ہو
بدوش گرد رہ کارواں گئے مرے دن

کوئ نگاہ، کوئ دل، نہ کوئ حرف سپاس
نہیں تھا کوئ بھی جب پاسباں ،گئے مرے دن

بہت سے لوگ گلی کا طواف کرتے تھے
بس اس قدر ہے مری داستاں،گئے مرے دن!

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:38



عمر کے بعد اس طرح دید بھی ہو گی بات بھی
تو بھی قریب جاں ہے آج بھیگ رہی ہے رات بھی

دل میں ہے اک محل سرا اس میں لگا ہے آئینہ
عکس ہے اس میں غیر کا عکس میں اپنی ذات بھی

خواب میں تیری دید سے اس طرح روشنی ہوئ
نور سے بھر گیا تمام حجلہء کائنات بھی

ایک خیال کے طفیل ایک وصال کے سبب
روز تو روز عید تھا شب تھی شب برات بھی

سارے جہاں کے سامنے ایسے رہے ہیں سربلند
دل میں تھا ایک رنج بھی ہاتھ میں ایک ہاتھ بھی

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:38



بارش میں پہاڑ کی ایک شام

بہت تیز بارش ہے
کھڑکی کے شیشوں سے بوچھاڑ ٹکرا رہی ہے
اگر میز سے سب کتابیں ہٹا دوں تو چائے کے برتن رکھے جا سکیں گے

یہ بارش بھی کیسی عجب چیز ہے
یوں بیک وقت دل میں خوشی اور اداسی کسی اور شے سے کہاں
تم جو آؤ تو کھڑکی سے بارش کو اک ساتھ دیکھیں
ابھی تم جو آؤ تو میں تم سے پوچھوں کہ دل میں خوشی اور اداسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جانتی ہوں کہ تم کیا کہو گے:

مری جان !
اک چیز ہے تیز بارش سے بھی تند
جس سے بیک وقت ملتی ہے دل کو خوشی اور اداسی
محبت !:

مگر تم کہاں ہو؟
یہاں سے وہاں رابطے کا کوئ بھی وسیلہ نہیں ہے
بہت تیز بارش ہے اور شام گہری ہوئ جا رہی ہے
نجانے تم آؤ نہ آؤ
میں اب شمع دانوں میں شمعیں جلا دوں
کہ آنکھیں بجھا دوں؟

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:39

جیسے یہ درد سے بنی ہوئ تھی
شام اس طرح کاسنی ہوئ تھی

رات کی اپنی روشنی تھی بہت
دھوپ کے جیسی چاندنی ہوئ تھی

کوئ ذی روح دور دور نہ تھا
اور خموشی بہت گھنی ہوئ تھی

کون تھا بن میں بھیگنے والا
چادر ابر کیوں تنی ہوئ تھی

گونجتی تھی ہر ایک سانس کے ساتھ
اک تمنا جو راگنی ہوئ تھی

ایک مدت کے انتظار کے بعد
اس دریچے میں روشنی ہوئ تھی

آئینہ کیوں سیاہ لگتا تھا؟
کیا اندھیرے سے میں بنی ہوئ تھی

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:40

غزل

تنہا، سر انجمن کھڑی تھی
میں اپنے وصال سے بڑی تھی

اک پھول تھی اور ہوا کی زد پر
پھر میری ہر ایک پنکھڑی تھی

اک عمر تلک سفر کیا تھا
منزل پہ پہنچ کے گر پڑی تھی

طالب کوئ میری نفی کا تھا
اور شرط یہ موت سے کڑی تھی

وہ ایک ہواےء تازہ میں تھا
میں خواب قدیم میں گڑی تھی

وہ خود کو خدا سمجھ رہا تھا
میں اپنے حضور میں کھڑی تھی

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:41

نہ شوق ہے، نہ تمنا، نہ یاد ہے دل میں
کہ مستقل کسی غم کی نہاد ہے دل میں

ہے الف لیلہ ولیلہ سی زندگی در پیش
سو جاگتی ہوئ اک شہر زاد ہے دل میں

جو ضبط چشم کے باعث نہ اشک بن پایا
اس ایک قطرہء خون کا فساد ھے دل میں

پھر ایک شہر سبا سے بلاو ا آیا ہے
پھر ایک شوق سلیماں نژاد ھے دل میں

ہے ایک سحر دلآویز کا اسیر بدن
تو جال بنتی، کوئ اور یاد ہے دل میں

تمام خواہشیں اور حسرتیں تمام ہوئیں
مگر جو سب سے عجب تھی مراد ہے دل میں

ثمینہ راجہ
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by ♥мαηмσηι♥ on 1/9/2010, 00:41

I love you
avatar
♥мαηмσηι♥
Pleasant Youth
Pleasant Youth

Posts : 168
Join date : 2010-08-23
Age : 31
Location : zara_e_benishan

Back to top Go down

Re: ثمینہ راجہ

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum